نئی دہلی،12؍اپریل(ایس او نیوز؍ایجنسی) تمام ریاستوں کے وزراء اعلیٰ سے گفت و شنید کے بعد اب یہ بات تقریباً طے ہوگئی ہے کہ مودی حکومت ملک گیر لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی توسیع کرنے جارہی ہے- اس کا دعویٰ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے بھی کیا ہے- بس سرکاری اعلان کا انتظار ہے-
حالانکہ اس سے قبل اڈیشہ، پنجاب کے بعد کرناٹک،مہاراشٹرا اور مغربی بنگال حکومت نے لاک ڈاؤن کی مدت میں دو ہفتے سے زائد توسیع کر کے اپنا رجحان پہلے ہی مرکزی سرکار کو بتادیا تھا- کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اموات میں دن بہ دن اضافے کی وجہ سے ایک طرف جہاں مودی حکومت پریشان ہے وہیں اس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت ہے-
جس کی وجہ سے آج نریندر مودی نے ریاستوں کے وزراء اعلیٰ کے رجحانات کا خیر مقدم تو کیا لیکن یہ بھی کہا کہ ”جان اور جہاں“ دونوں کا بچانا ضروری ہے- اگر صرف جان بچتی ہے اور معیشت ختم ہوجاتی ہے تو بعد میں زندگی گزارنا بہت مشکل ہوجائے گا- وزیر اعظم کی میٹنگ آج تقریباً 4گھنٹے تک چلی جس میں عوام کو ہورہی پریشانیوں پر بھی بات کی گئی -
میٹنگ کے بعد کجریوال اور ممتابنرجی کے بیانات کے پیش نظر میڈیا رپورٹس میں کہاجانے لگا کہ وزیر اعظم ایک بار پھر قوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ لاک ڈاؤن کی مدت میں اضافے سے لوگوں کو باخبر کریں گے-لیکن سرکار کے ذرائع نے یہ واضح کردیا ہے کہ ہفتہ کی رات کو مودی کا قوم سے خطاب ممکن نہیں ہے-
وزارت عظمیٰ دفتر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے منصوبے پر وزیر اعظم نے کہا کہ ایسا لگتا ہے یہ لاک ڈاؤن کو مزید دو ہفتوں تک بڑھانے پر تمام ریاستوں نے اتفاق کرلیا ہے اس کے تھوڑی ہی دیر بعد مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھے ٹھاکرے اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے 30/ اپریل تک لاک ڈاؤن بڑھانے کا اعلان کردیا-
اس دوران یہ بھی خبر آرہی ہے کہ گرتی ہوئی معیشت پر غور و فکر کرتے ہوئے لاک ڈاؤن کے درمیان مرکزی حکومت کچھ شعبوں کو چھوٹ دے سکتی ہے- لاک ڈاؤن سے ہوابازی کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے- ایسے میں مرکزی حکومت ہوائی کمپنیوں کو پرواز شروع کرنے کی اجازت دے سکتی ہے- اس شرط کے ساتھ کہ وہ سوشیل ڈسٹینس کا خیال رکھے-